تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| 6 محرم الحرام تاریخِ کربلا کا وہ مرحلہ ہے جب ظاہری نگاہوں سے دیکھا جائے تو باطل کی قوتیں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں، لیکن نگاہِ بصیرت سے دیکھا جائے تو یہی دن حق کی معنوی سربلندی اور ظلم کی اخلاقی شکست کے آغاز کا دن ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب کربلا کے میدان میں تلواروں کی جھنکار ابھی پوری طرح سنائی نہیں دیتی، مگر دلوں کے معرکے شروع ہو چکے ہوتے ہیں۔ ضمیروں کی عدالت قائم ہو چکی ہوتی ہے، وفاداریوں کا امتحان شروع ہو جاتا ہے اور انسانیت دو واضح راستوں میں تقسیم ہونے لگتی ہے۔
کربلا کا سفر درحقیقت زمین پر چلنے والا ایک عام قافلہ نہیں تھا، بلکہ خدا کی رضا اور انسانی عظمت کی معراج کی طرف بڑھنے والا ایک عرفانی سفر تھا۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ دشمن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، راستے محدود کئے جا رہے ہیں، پانی پر پہرے بٹھائے جا رہے ہیں اور حکومتِ وقت اپنی تمام تر قوت مجتمع کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آپؑ کے چہرۂ مبارک پر اضطراب نہیں بلکہ سکون، اطمینان اور توکلِ الٰہی کی روشنی نمایاں تھی۔
یہ اطمینان کہاں سے آتا ہے؟
یہ اطمینان اس یقین سے جنم لیتا ہے کہ جو شخص خدا کے لئے قیام کرتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔
حضرت حبیب بن مظاہر علیہ: وفاداری، بصیرت اور عشقِ ولایت کا پیکر
6 محرم کا سب سے نمایاں کردار حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام ہیں۔ عمر کے آخری حصے میں تھے، مگر دل جوان، بصیرت تابندہ اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت خون میں رچی بسی تھی۔
جب وہ قبیلۂ بنی اسد کی طرف روانہ ہوئے تو درحقیقت صرف افراد جمع کرنے نہیں جا رہے تھے، بلکہ تاریخ کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے نکلے تھے۔
گویا ان کی صدا یہ تھی: "اے لوگو! رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تمہیں پکار رہے ہیں، کیا کوئی ہے جو ان کی نصرت کے لئے لبیک کہے؟"
یہ صرف ایک قبیلے سے خطاب نہیں تھا، بلکہ رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لئے ایک دائمی سوال تھا۔
آج بھی حبیبؑ کی آواز زمانے کے ہنگاموں میں سنائی دیتی ہے کہ "کیا کوئی ہے جو حق کا ساتھ دے؟"
اور ہر دور کا انسان اپنے کردار اور اپنے انتخاب سے اس سوال کا جواب دیتا ہے۔
کوفہ: ایک شہر نہیں، ایک نفسیاتی کیفیت
6 محرم کا مطالعہ کرتے ہوئے کوفہ محض ایک جغرافیائی شہر نہیں رہتا بلکہ ایک فکری اور نفسیاتی کیفیت بن جاتا ہے۔
کوفہ وہ مقام ہے جہاں لوگوں نے حق کو پہچانا، مگر اس کا ساتھ نہ دیا۔
انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھے، مگر وقتِ امتحان تنہا چھوڑ دیا۔
انہوں نے سچائی کو جانا، مگر مصلحت کو ترجیح دی۔
انہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ کیا، مگر قربانی سے گریز کیا۔
اسی لئے تاریخ میں یزید ظلم و استبداد کی علامت بنا اور کوفہ ارادہ کی کمزوری اور بے وفائی کی مثال بنا۔
کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان صرف ظالم بن کر ہی مجرم نہیں بنتا، بعض اوقات خاموش تماشائی بن کر بھی ظلم کے جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔
بازارِ آہنگران: جب ضمیر کی قیمت تلوار سے کم ہو جائے
6 محرم کو کوفہ کے بازاروں میں جنگی ساز و سامان کی تیاری اپنے عروج پر تھی۔ تلواریں تیز کی جا رہی تھیں۔ نیزوں کو درست کیا جا رہا تھا۔ تیروں کو زہر آلود بنایا جا رہا تھا۔ لیکن تاریخ آج بھی ایک سوال اٹھاتی ہے: کیا صرف لوہے کی دھار تیز کی جا رہی تھی یا انسانوں کے ضمیر بھی کند ہو رہے تھے؟
تاریخ کے ہر دور میں ایسے بازار آباد رہے ہیں۔ کبھی ظلم کے لئے تلواریں تیار کی جاتی ہیں۔ کبھی جھوٹ کے لئے قلم۔ کبھی فتنہ و فساد کے لئے زبانیں اور کبھی گمراہی پھیلانے کے لئے ذرائع ابلاغ (میڈیا)۔
کربلا کا پیغام یہ ہے کہ ہر دور کے انسان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس بازار کا حصہ ہے؛ حق کے بازار کا یا باطل کے بازار کا۔
عرفانِ کربلا: ظاہری شکست کے پردے میں ابدی کامیابی
دنیاوی نگاہ سے دیکھا جائے تو 6 محرم تک امام حسین علیہ السلام کے ظاہری امکانات محدود ہوتے جا رہے تھے۔ مدد کے راستے بند ہو رہے تھے۔ دشمن کے لشکر بڑھ رہے تھے۔ وسائل کم تھے۔ لیکن اہلِ معرفت جانتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کامیابی کا معیار ظاہری غلبہ نہیں بلکہ رضائے الٰہی کا حصول ہے۔
اسی لئے امام حسین علیہ السلام کی نگاہ صرف میدانِ جنگ پر نہیں بلکہ رضائے خدا پر مرکوز تھی۔
عارف فتح اور شکست کو دنیا والوں کی طرح نہیں دیکھتا۔ اس کے نزدیک اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے اور اسی کی راہ میں اپنی ہر چیز قربان کر دے۔ کربلا اسی عرفانِ بندگی اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔
ابن زیاد اور عمر بن سعد خوف زدہ اقتدار کی تصویر
بظاہر حکومت عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھی۔ فوج اس کے پاس تھی۔ خزانہ اس کے پاس تھا۔ اختیارات اس کے پاس تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مسلسل خطوط بھیج رہا تھا، جاسوس مقرر کر رہا تھا اور ہر لمحہ رپورٹ طلب کر رہا تھا۔
کیوں؟ اس لئے کہ باطل اپنی تمام ظاہری قوت کے باوجود اندر سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد ظلم پر قائم ہے۔ ظالم کو ہمیشہ حق کی آواز سے خوف آتا ہے، چاہے وہ آواز ایک تنہا انسان ہی کی کیوں نہ ہو۔
فرعون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خوف تھا۔ نمرود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خوف تھا اور یزید کو امام حسین علیہ السلام سے خوف تھا۔ تاریخ کا یہی اصول ہے کہ باطل ہمیشہ حق کی روشنی سے خائف رہتا ہے۔
6 محرم کا انقلابی پیغام
6 محرم کا پیغام ہے کہ انقلاب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ دلوں میں جنم لیتے ہیں۔ حقیقی انقلاب اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان خوف کی زنجیروں کو توڑ دے۔ جب دنیا کی محبت اس کے دل سے نکل جائے۔ جب حق کی خاطر قربانی آسان محسوس ہونے لگے اور جب خدا کی رضا ہر خواہش پر غالب آ جائے۔
اسی لئے کربلا صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی انقلاب ہے۔
یہ انقلاب آج بھی زندہ ہے کیونکہ اس کی بنیاد طاقت پر نہیں بلکہ اخلاص، صداقت اور قربانی پر رکھی گئی تھی۔
آج اگرچہ نہ کوفہ ہے، نہ ابن زیاد اور نہ عمر بن سعد؛ لیکن ان کی سوچ اور طرزِ عمل مختلف شکلوں میں آج بھی موجود ہیں۔ آج بھی حق کے مقابلے میں طاقت کا غرور موجود ہے۔ آج بھی سچائی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ آج بھی ضمیر فروشی کے بازار گرم ہیں اور آج بھی حبیب بن مظاہر علیہ السلام جیسے باوفا اور باکردار افراد کی ضرورت ہے۔
ایسے افراد جو حق کو پہچانیں، اس پر ثابت قدم رہیں اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوں۔
کربلا کا پیغام صرف یہ نہیں کہ امام حسین علیہ السلام پر اشک بہائے جائیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے راستے کو اپنایا جائے۔
6 محرم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے عظیم فیصلے ہمیشہ میدانوں میں نہیں ہوتے، بعض اوقات وہ انسان کے دل کے اندر طے پاتے ہیں۔ یہی وہ دن تھا جب بنی اسد آزمائے گئے، کوفہ بے نقاب ہوا، ابن زیاد کی بے چینی ظاہر ہوئی، حضرت حبیب بن مظاہر علیہ السلام کی وفاداری روشن ہوئی اور امام حسین علیہ السلام کے توکل و استقامت نے نئی بلندی حاصل کی۔
یہ دن اعلان کرتا ہے کہ حق وقتی طور پر تنہا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ خدا کی نصرت، فرشتوں کی تائید، تاریخ کی گواہی اور اہلِ ایمان کے دلوں کی عقیدت ہوتی ہے۔
6 محرم کا پیغام آج بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے:
"باطل کے لشکر کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اگر دل خدا سے وابستہ ہو تو ایک (حسین علیہ السلام) پوری تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔"









آپ کا تبصرہ